حامد میر کہتے ہیں کہ:”میرے گاؤں کا میرا ایک کلاس فیلو میٹرک میں فیل ہو گیا…”تو اس کے والد نے اسے بہت مارا اور کمرے میں بند کر دیا۔ وہ لڑکا اسی رات کے وقت اپنے گھر سے فرار ہو گیا۔ اس کے والد نے اسے کافی عرصہ تلاش کیا، لیکن اس کی کوئی خبر نہ ملی اور اسی طرح 10 سال گزر گئے۔बेटے کے غم میں اس کی والدہ کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی، حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا۔ آخر اس کا والد اپنی بھینسیں وغیرہ بیچ کر، اپنی بیوی کو علاج کے لیے شہر کے ایک مہنگے پرائیویٹ ہسپتال میں لے گیا۔
حامد میر کی اس مشہور کہانی کے مطابق، جب وہ بوڑھا باپ ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوا، تو سامنے وہی اس کا فیل ہونے والا سگا بیٹا بیٹھا تھا جو اب ایک نامور اور بڑا ڈاکٹر بن چکا تھا!بیٹا اپنے والدین کو دیکھ کر اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا، باپ کے گلے لگ کر رویا اور اپنی ماں کا بہترین علاج کروایا۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی ایک امتحان میں فیل ہو جانا زندگی کی ناکامی نہیں ہوتا، اور والدین کو بچوں کی وقتی ناکامی پر انہیں گھر چھوڑنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔اگر آپ اس کہانی کا کوئی خاص ترجمہ (انگلش یا رومن اردو میں) چاہتے ہیں، یا اس کے اخلاقی سبق (Moral Lesson) پر مزید تفصیلی گفتگو کرنا چاہتے ہیں، تو مجھے ضرور بتائیے!
Comments
Post a Comment