“تسبیح چھوڑ کر بند۔و۔ق اٹھانے والا وہ درویش… جس کی پھا۔ن۔سی پر خود انگریزوں نے اعتراف کیا کہ ‘اس جیسا نشانہ باز نہ کبھی پیدا ہوا، نہ ہو گا!'”
یہ کہانی ہمارے اس عظیم مگر گمنام ہیرو ‘فقیر کالا خان مری بلوچ’ کی ہے، جس کی تاریخ دانستہ طور پر ہم سے چھپائی گئی!
1870 میں جب انگریزوں نے بلوچستان پر حملہ کیا، تو اس صوفی بزرگ نے ذکر و فکر چھوڑ کر اپنے وطن کی مٹی کے لیے مز۔ا۔حمت کی ایک ایسی خو۔ف۔نا۔ک تاریخ رقم کی جس نے برطانوی راج کی جڑیں ہلا دیں۔ ضلع کوہلو کے علاقے کاہان کی صرف ایک پہاڑی پر، اس مردِ مجاہد نے جدید تو۔پو۔ں سے لیس برطانوی فوج کو پورے چار سال تک آگے نہیں بڑھنے دیا!
سینکڑوں فوجیوں کی ہ۔ل۔ا۔ک۔ت اور مہینوں کے طویل محاصرے کے بعد، جب مسلسل بھوک اور پیاس نے نڈھال کر دیا، تب کہیں جا کر انگریز کالا خان اور ان کے دو ساتھیوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1891 میں تختہ دار پر چڑھنے سے قبل کھینچی گئی یہ آخری تصویر ان کی بہادری کی زندہ گواہ ہے۔ موت کے بعد کلکتہ بھیجے گئے سرکاری تار میں انگریزوں نے خود اس کی نشانے بازی اور بہادری کا لوہا مانا۔
افسوس کا مقام ہے کہ جس ہیرو کی شجاعت پر غیروں نے بھی سر تسلیمِ خم کیا، ہم نے اسے بھلا دیا۔ آخر اس عظیم مجاہد کی تاریخ ہماری نصابی کتابوں سے کیوں غائب ہے؟ ان پر ڈرامے اور فلمیں کیوں نہیں بنیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج بھی جواب کا منتظر ہے!
Comments
Post a Comment