کراچی میں افسوسناک ترین واقعہ، نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا

کراچی میں افسوسناک ترین واقعہ، نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا

کراچی، جو روشنیاں اور خوابوں کا شہر کہلاتا ہے، داستانوں میں غرق ہو گیا جب ناخوشگوار ترین واقعہ رونما ہوا، جس نے سب کے دلوں کو دہلا دیا۔ اُستاد عارف حمید، جو نہ صرف اپنے علم کی وجہ سے بلکہ اپنی شفقت اور طالب علموں سے گرم جوشی کی بنا پر مشہور تھے، اُس دن شہر کی خاموش گلیوں میں بھی ایک بوجھ چھوڑ گئے۔ ہوا یوں کہ زمین کی کوئی زلزلہ خیز حرکت نہ ہوئی، نہ آسمان کا غرور ٹوٹا، بلکہ یہ انسانیت کا دل تھا جو رویا۔ اس واقعے کی گھمبیرتا کو صیغۂ راز میں رکھا گیا، مگر اس کا اثر شہر بھر کی چہل پہل میں بھی ملموس ہوا۔ طلبا جو کسی بھی استاد کے پیچھے چلنے کا خواب دیکھتے ہیں، اب بے سر و پا تھے، جیسے اُن سے اُن کی راہنما بچھڑ گیا ہو۔ یہ حادثہ نہ صرف عارف حمید کی زندگی میں ایک خلا چھوڑ گیا بلکہ شہر کے تعلیمی حلقوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ ہر طرف ایک افسردگی کا سماں تھا، اور کراچی کی ہوائیں اپنے ساتھ وہ درد لے کر گھوم رہی تھیں جو کبھی نہ زمین اور نہ آسمان چیر سکتا تھا۔

Comments