اپنی ہی ذہنی معذور بیٹی کی عزت کا سودا کرنے والے باپ

اپنی ہی ذہنی معذور بیٹی کی عزت کا سودا کرنے والے باپ

“50 لاکھ دے دو، کیس واپس لے لیں گے!” اپنی ہی ذہنی معذور بیٹی کی عزت کا سودا کرنے والے باپ کا خ۔و۔ف۔ن۔ا۔ک سچ سامنے آ گیا!

تھانے کے لاک اپ میں بند اے ایس آئی ‘عمران’ کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور آنکھوں میں آنسو… اس 5 وقت کے نمازی پولیس والے پر ایک ایسا گھناؤنا الزام لگایا گیا تھا جس کی وجہ سے نہ صرف وہ سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا، بلکہ پورا تھانہ غازی آباد ہی معطل ہو گیا۔

الزام تھا کہ اس نے گلی نمبر 2 کے رہائشی غلام مصطفیٰ کی 17 سالہ ذہنی معذور بیٹی (نجمہ) کے ساتھ ز۔ی۔ا۔د۔ت۔ی کی ہے۔ لیکن جب سچائی سے پردہ اٹھا تو ہر باشعور انسان کا سر شرم سے جھک گیا۔

ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ معصوم بچی کے ساتھ سرے سے کوئی ز۔ی۔ا۔د۔ت۔ی ہوئی ہی نہیں!
دراصل یہ سارا کھیل پیسوں کا تھا۔ جب عمران حوالات کی ہوا کھا رہا تھا، تو اس کے ورثاء کو بند کمرے میں پیشکش کی گئی: “چپ چاپ 50 لاکھ روپے دے دو… ہم کارروائی واپس لے کر تمہاری جان چھوڑ دیں گے!”

لیکن کینٹ کچہری میں جب یہ بلیک میلنگ کا کیس پیش ہوا تو خاتون مجسٹریٹ نے میڈیکل رپورٹ دیکھتے ہی بچی کے لالچی ورثاء پر وہ غصہ اتارا کہ ان کے پسینے چھوٹ گئے۔ مجسٹریٹ نے کھری کھری سناتے ہوئے وارننگ دی کہ “تمہارے اس جھوٹ سے پورا تھانہ معطل ہوا ہے، اگر یہ بلیک میلنگ ثابت ہو گئی تو میں تم پورے خاندان پر ایف آئی آر کاٹوں گی!”

چند روپوں کی لالچ میں اپنی ہی معذور بیٹی کو بدنام کرنے والوں کا یہ چہرہ اب عوام کے سامنے آ چکا ہے۔ اب ڈی آئی جی آپریشنز اور انویسٹی گیشن کو چاہیے کہ میرٹ پر اس بلیک میلر مافیا کے خلاف سخت ترین ایکشن لیں تاکہ آئندہ کوئی کسی کی پگڑی نہ اچھال سکے!

Comments