لاہور کے علاقے نو ناریاں کے لوگ سلطان راہی جانتی کیوں کہتے ہیں؟

لاہور کے علاقے نو ناریاں کے لوگ سلطان راہی جانتی کیوں کہتے ہیں؟

ہم تو سمجھتے تھے کہ یہ کنجر اور میراثی لوگ ہیں ، لاہور کے علاقہ نوناریاں کے لوگ سلطان راہی کو”جنتی” کیوں کہتے ہیں :نوناریوں کے ایک نیک بزرگ کی باتیں ۔۔۔یہ 1972 کا واقعہ ہے جب حاجی نیامت نوناریاں کی مرکزی جامع مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے اس سلسلے میں وہ اپنے علاقے میں مقیم ایک فلم ڈاریکٹر،پروڈیوسر ایم-اکرم سے جاکر ملے ،اُن سے جو کچھ ہو سکا انہوں نے کیا ،پھر حاجی نیامت سے کہا آپ لوگ کل اسٹوڈیو تشریف لائیے گا وہاں ایک اداکار ہیں سلطان راہی ،وہ ان کاموں کے بڑے شوقین ہیں اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ،چنانچہ اگلے دن یہ لوگ اسٹوڈیو پہنچ گئے ، تب فلم “بشیرا”سُپر ہٹ جا رہی تھی ، یہ لوگ سلطان راہی سے ملے.

انہیں اپنا مدعا بیان کیا تو سلطان راہی صاحب نے فوراً 5000 روپے نکال کر انہیں دے دئیے ،یاد رہے کہ سلطان راہی کو بشیرا فلم کا معاوضہ 7000 روپے ملا تھا ، سلطان راہی نے ان سے کہا حاجی صاحب میں اور بھی تعاون کے لیے حاضر ہوں،شکریہ کیساتھ یہ لوگ واپس آگئے اور مسجد کی تعمیر کا کام زور و شور سے شروع ہوگیا ، مسجد لینٹر پر آگئی ،جس دن لینٹر ڈالا گیا سلطان راہی صاحب نوناریاں کے علاقے خود پہنچ گئے ،تسلہ اٹھایا اور دیگر مزدوروں کی طرح کام کرنے لگے ، تھوڑی دیر بعد مسجد کمیٹی کے سربراہ حاجی نیامت و دیگر افراد وہاں پہنچ گئے ،انہوں نے سلطان راہی کو کام کرتا دیکھا تو انہیں روکا کہ نہیں ۔۔۔۔آپ رہنے دیں ،اس کام کے لیے مزدور بہت ہیں ،اس پر سلطان راہی بو لے ،حاجی صاحب ،میرے لیے اس سے بڑی سعادت اور نیکی کیا ہوگی کہ میں اللہ کے گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالوں ، مجھے بھی مزدور ہی سمجھیں.

مگر کمیٹی والوں نے انہیں زبردستی بٹھا لیا اور چائے پیش کی ۔۔۔اسکے بعد سلطان راہی نے مزید 2500 روپے انہیں دئیے اور وہاں سے دُعائیں لیتے ہُوئے رخصت ہو گئے ۔۔۔حاجی نیامت بتاتے ہیں کہ اس دن مجھ پر ادراک ہوا کہ ضروری نہیں نیک کام داڑھی رکھ کر،سر پر ٹوپی رکھ کر یا پھر تبلیغ کرکے کیے جائیں، اللہ کو،راضی کرنے کے اور بھی بہت سے ذرائع ہیں ۔۔۔

Comments