“تھانے کے لاک اپ میں بند ظ۔ا۔ل۔م بیٹے کو دیکھ کر بوڑھی ماں کی وہ ایک چیخ… جس نے ڈیوٹی پر کھڑے سخت گیر پولیس والوں کو بھی رلا دیا!”
فیصل آباد کی ایک خاموش رات… جب ایک کچے مکان کے صحن سے بوڑھی اور بیمار ماں کی سسکیاں ابھریں۔ معمولی سی بات پر اس جوان بیٹے نے، جسے اس ماں نے اپنا پیٹ کاٹ کر پالا تھا، اپنی ہی جنت پر ہاتھ اٹھا دیا۔ اس نے کمزور ماں کو تھپڑ مارے اور پھر بازو سے گھسیٹتے ہوئے اسے گلی میں دھکے دے کر دروازہ اندر سے لاک کر لیا۔
بیمار ماں رات بھر پڑوسیوں کی دہلیز پر بیٹھی اپنے آنسوؤں سے دوپٹہ بھگوتی رہی۔ صبح محلے والوں کی شکایت پر پولیس کی گاڑی آئی اور اس نافرمان بیٹے کو ہتھکڑیاں لگا کر تھانے لے گئی۔
لیکن تھانے میں جو منظر تھا، اس نے انسانیت کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ جب پولیس والے اس بیٹے کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل رہے تھے اور حوالات کا تالا لگنے والا تھا، تو رات بھر کی ستائی ہوئی وہ زخمی ماں کانپتے قدموں کے ساتھ آگے بڑھی۔ اس نے پولیس افسر کے آگے اپنے دوپٹے کا پلو پھیلا دیا اور روتے ہوئے التجا کی:
“صاحب! میرے پتر نوں سمجھا ضرور لینا… پر خدارا اس نوں مارنا ناں۔۔۔ کچا گوشت اے، اس نوں درد ہوندا اے!”
یہ ہے ماں کا دل… جو اپنے جسم پر لگنے والے زخم اور رات بھر کی ذلت تو بھول جاتا ہے، مگر حوالات میں کھڑے اپنے ہی گنہگار بیٹے کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا۔ ہم کتنے بدقسمت ہیں جو اس انمول نعمت کی قدر نہیں کرتے!
Comments
Post a Comment