میرے بچے تین دن سے بھوک سے بلک رہے تھے

میرے بچے تین دن سے بھوک سے بلک رہے تھے

“میرے بچے تین دن سے بھوک سے بلک رہے تھے، میں باپ تھا… آخر اور کیا کرتا؟”

تھانے کے فرش پر پھٹے ہوئے برقعے میں بیٹھا اور آنسو بہاتا یہ کوئی عادی ڈ۔ک۔ی۔ت نہیں تھا، بلکہ گوجرانوالہ کا ایک بے بس باپ، عثمان تھا!

عثمان کبھی بازار میں دہی بھلے کی ریڑھی لگا کر عزت کی روٹی کماتا تھا، مگر پابندیوں اور بے روزگاری نے اس کا واحد سہارا چھین لیا۔ جب گھر کا آخری برتن بھی بک گیا اور بچوں نے مسلسل تین دن صرف پانی پی کر رات گزاری، تو باپ کی برداشت جواب دے گئی۔ اس نے مجبوری میں برقع پہنا اور ایک گھر میں واردات کرنے گھس گیا۔

مگر چونکہ وہ کوئی جرائم پیشہ شخص نہیں تھا، گھبراہٹ اور خوف سے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ دروازہ باہر سے لاک کرنا بھول گیا، پکڑا گیا اور بپھرے ہوئے ہجوم کے ت۔ش۔د۔د کا نشانہ بننے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

لیکن کہانی میں اصل اور خوبصورت موڑ تب آیا جب یہ خ۔و۔ن میں لت پت شخص ڈی ایس پی ‘عمران عباس’ کے سامنے پیش ہوا۔ ایک سچے پولیس افسر کی آنکھوں نے م۔ل۔ز۔م کے پیچھے چھپے اس مجبور باپ کی بے بسی کو فوراً پہچان لیا۔

ڈی ایس پی صاحب نے اسے ہتھکڑیاں لگانے کے بجائے مدعی سے منت کر کے کیس واپس کروایا، اس کے گھر راشن بھجوایا، رکا ہوا کرایہ دیا اور ایک باعزت روزگار کا وعدہ بھی کیا۔ آج عثمان رو کر لوگوں کو یہی نصیحت کرتا ہے: “بھوک سے مر جانا، لوگوں سے ہاتھ پھیلا کر مانگ لینا… مگر ج۔ر۔م کا راستہ کبھی نہ چننا!”

Comments