“پنجاب کا وہ 25 سالہ خ۔و۔ف۔ن۔ا۔ک ڈ۔ا۔ک۔و جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ تھی… اور جس نے اپنے گاؤں میں پولیس کے داخلے پر پابندی لگا رکھی تھی!”
پنجاب پولیس کے ایک مشہور اینکاؤنٹر سپیشلسٹ نے ایک بار کہا تھا: “اگر کاشی بھٹی غرور میں آ کر وہ دو بڑی غلطیاں نہ کرتا، اور چیزوں کو ٹھنڈا کر کے کھاتا، تو شاید اس کے عروج کو کبھی زوال نہ آتا!”
یہ کہانی ہے سالار بھٹیاں (شیخوپورہ/حافظ آباد) کے بدنامِ زمانہ ‘نقاش عرف کاشی بھٹی’ کی۔ وہ ضلع کی تاریخ کا کم عمر ترین، یعنی محض 25 سالہ جرائم پیشہ تھا، جس نے اپنا ایک خطرناک گینگ بنا رکھا تھا۔ اس پر ق۔ت۔ل، ڈکیتی، ا۔غ۔وا برائے تاوان اور بھتہ خوری کے 100 سے زائد مقدمات درج تھے۔
کاشی کا خوف اس قدر تھا کہ 2008 میں ڈی آئی جی اور دو ڈی پی اوز کی قیادت میں 4 اضلاع کی پولیس اور کمانڈوز نے 36 گھنٹے کا طویل آپریشن کیا، مگر یہ چھلاوہ ان کے ہاتھ نہ آیا۔ اس کی تباہی کا آغاز اس کے اپنے غرور اور دو بڑی غلطیوں سے ہوا:
پہلی غلطی:
اس نے ایک بڑے کاروباری شخص کو صبح فجر کے بعد واک کرتے ہوئے ا۔غ۔وا کر لیا۔ جب پولیس کی درجنوں ریڈز کے باوجود کاشی ہاتھ نہ آیا، تو گھر والوں نے ڈر کر ‘ڈبل تاوان’ ادا کیا کیونکہ کاشی اس بات پر غصے میں تھا کہ انہوں نے پولیس کیوں بلائی۔
اس ‘کامیابی’ نے کاشی کو اندھا کر دیا۔ اسی تکبر میں چند دن بعد، چنیوٹ جاتے ہوئے ایک موبائل شاپ والے سے سم (SIM) کے معاملے پر بحث ہوئی تو اس نے دن دیہاڑے رائفلوں سے ف۔ا۔ئ۔ر۔ن۔گ کر دی۔ بھاگتے ہوئے وہ جھنگ کے ناکے پر پولیس سے ٹکرا گیا۔ اس خ۔و۔ن ری۔ز مقابلے میں اس کے 3 ساتھی ہ۔ل۔ا۔ک ہو گئے، مگر وہ اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔
دوسری اور آخری غلطی:
اس مفروری کے دوران کاشی کا دماغ اتنا خراب ہو چکا تھا کہ اس نے ایک مشہور سیاستدان کو بھتے کے لیے فون کیا اور سیدھی د۔ھ۔م۔ک۔ی دی: “اگر رقم نہ پہنچی تو تجھے تیرے گھر کے اندر سے اٹھا کر لے جاؤں گا!”
بس یہ بات اقتدار کے ایوانوں تک گونج گئی اور حکومت کا پارہ ہائی ہو گیا۔ اعلیٰ حکام نے فوراً ڈی آئی جی ‘ذوالفقار احمد چیمہ’ کو شیخوپورہ تعینات کیا اور انہیں کاشی بھٹی کو ختم کرنے کا فائنل ٹاسک دے دیا۔
کہا جاتا ہے کہ جن دوستوں پر کاشی سب سے زیادہ اعتبار کرتا تھا، وہی اس کے مخبر بن گئے۔ بالآخر 9 جون 2011 کو خانقاہ ڈوگران کے علاقے میں پولیس اور کاشی سالاریا کا آمنا سامنا ہو گیا۔ ایک طویل اور خوفناک مقابلے کے بعد، 50 لاکھ کے اس انعامی اشتہاری کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
بدمعاشی جتنی بھی بڑی ہو… جب تکبر حد سے بڑھتا ہے تو انجام ہمیشہ زمین کے نیچے ہی ہوتا ہے!
Comments
Post a Comment