ناموسِ رسالت پر جان نچھاور کرنے والے 19 سالہ غازی علم الدین شہید کی زندگی

ناموسِ رسالت پر جان نچھاور کرنے والے 19 سالہ غازی علم الدین شہید کی زندگی

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کے یادگار ترین واقعے، ناموسِ رسالت پر جان نچھاور کرنے والے 19 سالہ غازی علم الدین شہید کی زندگی، تاریخی عدالتی کارروائی اور میاں والی جیل سے لاہور جسدِ خاکی کی منتقلی کی تفصیل۔
لاہور سے ملنے والی تاریخی دستاویزات کے مطابق، 1920ء کی دہائی میں ایک ہندو پبلشر مہاشے راجپال نے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کی،نوجوان علم الدین کے دل میں ناموسِ رسالت کا جذبہ اس قدر بیدار ہوا کہ 6 اپریل 1929ء کو انارکلی بازار میں واقع راجپال کی دکان میں داخل ہو کر اسے ابدی نیند سُلا دیا۔
گرفتاری کے بعد غازی علم الدین نے اپنے اقدام کا برملا اعتراف کیا، 22 مئی 1929ء کو سیشن جج نے انہیں سزائے موت کا حکم سنایا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناح بمبئی سے خصوصی طور پر لاہور ہائی کورٹ میں غازی علم الدین کی اپیل لڑنے کے لیے تشریف لائے، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ علم الدین کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔ تاہم، ججوں نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا۔
غازی علم الدین کو میاں والی جیل منتقل کیا گیا، جیل ذرائع کے مطابق، جب انہیں پھانسی کے حکم کی اطلاع ملی تو وہ مسکرا دیے اور کہا کہ “میں جیل میں سڑنا نہیں چاہتا تھا، میری خواہش تھی کہ اپنے آقاؐ کی عزت پر جان قربان کر کے ابدی زندگی پا سکوں”۔ بالآخر 31 اکتوبر 1929ء کی صبح میاں والی جیل میں غازی علم الدین کو پھانسی دے دی گئی۔
14 نومبر 1929ء کو غازی علم الدین شہید کا جسدِ خاکی میاں والی سے لاہور پہنچا تو پورا شہر امڈ آیا،نمازِ جنازہ میں تقریباً 4 لاکھ سے زائد عاشقانِ رسولؐ شریک ہوئے، جو اس دور میں لاہور کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا۔ شہر کے تمام بازار اور کاروباری مراکز مکمل طور پر بند تھے۔
جب غازی علم الدین شہید کے جسدِ خاکی کو لاہور کے مشہور میانی صاحب قبرستان میں لحد میں اتارا جا رہا تھا، تو علامہ محمد اقبال زار و قطار رو رہے تھے، اس موقع پر انہوں نے اپنے تاریخی اور امر ہو جانے والے الفاظ کہے
“اسیں ویکھدے ای رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا”(یعنی: ہم پڑھے لکھے لوگ دیکھتے ہی رہ گئے اور بڑھئی کا یہ ان پڑھ بیٹا بازی لے گیا اور ہم سب سے آگے نکل گیا)
آج بھی لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں غازی علم الدین شہید کا ایک خوبصورت مزار موجود ہے، جہاں ہر سال 30 اکتوبر کو ان کا عرس عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، میاں والی جیل میں بھی ان کی یاد میں ‘غازی علم الدین شہید مسجد’ تعمیر کی گئی ہے۔

Comments