سونے اور چاندی کی قیمت میں عالمی سطح پر اتار چڑھاؤ جاری ہے ماہرین نے 2030 تک اس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔ سونا ایک قیمتی دھات ہے، جو ایک کامیاب سرمایہ کاری بھی سمجھی جاتی ہے، گزشتہ ڈیڑھ سال سے سونے کی قیمتوں میں مسلسل بڑے اضافے کے بعد اب اس میں اتار چڑھاؤ جاری ہے جب کہ چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافے کے بعد اب گراوٹ جاری ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی مکمل طور پر ختم نہ ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رخ کر رہے ہیں، جس کا فائدہ سونے اور چاندی کو مل رہا ہے۔ ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے مطابق اس مارکیٹ سے وابستہ ماہرین نے اگلے چار برسوں میں اس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔ مارکیٹ کے بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ان کی قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو اگلے سال سونا نئی ریکارڈ سطح قائم کر سکتا ہے اور اس کی قیمت 7,000 ڈالر فی اونس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ 2030 کی ابتدائی دہائی تک سونا 10,000 ڈالر فی اونس اور چاندی 300 ڈالر فی اونس سے اوپر جا سکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر امریکا کی مالی صورتحال مزید کمزور ہوتی ہے، خاص طور پر سوشل سیکیورٹی فنڈ سے متعلق چیلنجز بڑھتے ہیں، تو سونے اور چاندی کی قیمتیں ان کے موجودہ اندازوں سے بھی کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں، ایسی صورت میں مائننگ کمپنیوں کے شیئرز بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت4349 ڈالر ہے اور پاکستان میں فی تولہ قیمت 4 لاکھ 57 ہزار 336 ہے۔
اگر پیشگوئی کے مطابق 2030 میں سونا 10 ہزار ڈالر فی اونس تک پہنچتا ہے تو موجودہ کرنسی ریٹ کے مطابق پاکستان میں اس کی قیمت 10 لاکھ 52 ہزار روپے فی تولہ سے زائد تک ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ 2030 تک سونے اور چاندی کی قیمت سے متعلق تمام اعداد و شمار صرف مارکیٹ کے موجودہ رجحانات اور ماہرین کے اندازوں پر مبنی ہیں، عالمی معاشی یا سیاسی حالات میں بڑی تبدیلی آنے کی صورت میں یہ پیش گوئیاں تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔

Comments
Post a Comment