بہن بھائی کے پیار کو ناجائز تعلقات کا رنگ دے کر جان لینے کا واقعہ ایسا رُخ اختیار کر گیا کہ پورا ملک افسوس میں ڈوب گی
بہن بھائی کے پیار کو ناجائز تعلقات کا رنگ دے کر جان لینے کا واقعہ ایسا رُخ اختیار کر گیا کہ پورا ملک افسوس میں ڈوب گی
بہن بھائی کے پیار کو ناجائز تعلقات کا رنگ دے کر جان لینے کا واقعہ ایسا رُخ اختیار کر گیا کہ پورا ملک افسوس میں ڈوب گیا!
یہ کہانی ہے فیصل آباد کے نواحی علاقے جڑانوالہ کی!22مئی کو پیش آئے بہن،بھائی کے (ق/ت/ل) کے پیچھے چھپی کہانی منظرعام پر!
واصف جس کی عمر 17سال تھی جب وہ محض چھ ماہ کا تھا تو اسکی ماں نے گھر سے بھاگ کر دوسری شادی کر لی!واصف کے والد نے واصف کو اپنے بھائی اور بھابھی کو دیدیا جنکی پہلے سے کوئی اولاد نہ تھی!یعنی واصف نے اپنے تایا کے گھر پرورش پائی!
واصف کی ماں نے کو اللہ نے ایک اور اولاد (بیٹی ) سے نوازا جس کا نام رباب رکھا گیا!کچھ عرصے بعد واصف کی ماں نے اپنے دوسرے شوہر کو چھوڑا اور تیسرے مرد سے شادی کر لی ! تیسرا شوہر چودہ سالہ رباب کی شادی اپنے ایک دوست سے کرنا چاہتا تھا جو کہ نشے کا عادی تھا!
جب ماں نے رباب سے شادی کا تذکرہ کیا تو رباب نے اِنکار کر دیا اور اپنے بھائی واصف سے مدد کی درخواست کی ، واصف اپنی بہن کو بچانے کے لیے لے کر غائب ہوگیا!رباب کی ماں اور سوتیلے باپ نے واصف پر (ا/غ/و/ا) کا پرچہ درج کروا دیا !رباب عدالت میں پیش ہوئی اور اس نے بیان دیا کہ وہ اپنے باپ کے فیصلے سے متفق نہیں اس لیے وہ اپنے بھائی واصف کیساتھ رہ رہی ہے!
یہ بات رباب کی ماں اور سوتیلے باپ کو برداشت نہ ہوئی، انہوں نے اپنےساتھیوں کو ساتھ ملا کر 22مئی کو واصف اور رباب کی جان لے لی!واصف کی (ل/ا/ش) کو ایک درخت پر لٹکا دیا گیا جب کہ رباب کی (ل/ا/ش) کو زمین پر ہی پھینک کر فرار ہوگئے!
ظالم ماں پہلے مظلوم بنی رہی، اپنی بیٹی کا غم مناتی رہی لیکن جب پولیس نے ہر زاویے سے تحقیقات کا آغاز کیا تو وہ کہانی نکلی جو اوپر بیان کر دی گئی ہے!خاتون اور اسکے شوہر نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے!
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ویوز لینے کے چکر میں چند سستے یوٹیوبرز نے اس کہانی کو بہن بھائی کے ناجائز تعلق کا رنگ دینے کی کوشش کی اور واقعے کے حقائق کو موڑنے کی کوشش کی وہ بھی صرف اس لیے کہ انہیں چند ویوز مل جائینگے!
میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ کہانی چھاپنے یا دکھانے سے قبل حقائق کا ادراک کر لینا چاہیئے تاکہ عوام تک اصل حقیقت ہی پہنچائی جائے!شکریہ
Comments
Post a Comment