لیکن جیسے ہی شہزادہ سلمان نے اس کے ٹوٹے ہوئے مکان میں قدم رکھا تو

لیکن جیسے ہی شہزادہ سلمان نے اس کے ٹوٹے ہوئے مکان میں قدم رکھا تو

مکہ مکرمہ میں طواف کے بعد شہزادہ سلمان اپنے محافظوں کے ہمراہ باہر نکل رہے تھے کہ اچانک ایک چھوٹی سی معصوم بچی، جس کے لباس پر پیوند لگے تھے اور پاؤں میں جوتے تک نہیں تھے، سخت سیکیورٹی کے باوجود ان کے قریب پہنچ گئی اور انہیں ایک پرچی تھما کر ہجوم میں غائب ہوگئی۔ جب شہزادے نے وہ پرچی کھولی تو اس پر لرزتی ہوئی لکھائی میں لکھا تھا: “میں یتیم ہوں اور تین دن سے بھوکی ہوں”۔ یہ پڑھ کر شہزادے کے دل پر جیسے ہتھوڑا لگا۔ انہوں نے اسی وقت اس بچی کو تلاش کرنے کا حکم دیا اور ایک لاکھ ریال انعام کا اعلان کیا۔
جلد ہی محافظوں نے سراغ لگا لیا کہ وہ بچی شہر سے دور ایک ویران اور خستہ حال زیرِ تعمیر عمارت کے کونے میں رہتی ہے۔ شہزادہ سلمان نے فیصلہ کیا کہ وہ خود وہاں جائیں گے۔ جب وہ اس اندھیری اور ٹوٹی ہوئی عمارت میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ بچی اپنی بیمار ماں کا سر دبا رہی ہے اور اسے دلاسہ دے رہی ہے کہ “وہ امیر آدمی ضرور ہمارے لیے کھانا اور آپ کی دوا بھیجے گا”۔
جیسے ہی اس بیمار عورت نے شہزادے کو دیکھا، وہ ڈر گئی اور اپنی بیٹی کو پیچھے چھپا لیا۔ لیکن جب شہزادے کی نظر اس عورت کے چہرے پر پڑی تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ کوئی عام بھکارن نہیں تھی، بلکہ وہ ملک کی سب سے مایہ ناز اور مشہور آرکیٹیکٹ “زرتاشہ” تھی، جو چھ سال پہلے حج کے دوران مکہ میں بھگدڑ مچنے کی وجہ سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس حادثے میں اس کے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا اور سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھی تھی۔
شہزادے نے دیکھا کہ اس انتہائی غربت اور بیماری کی حالت میں بھی اس عورت کا وقار قائم تھا۔ وہ فرش پر مٹی اور لکڑی کی مدد سے ایسے پیچیدہ نقشے بناتی تھی جو صرف ایک ماہر آرکیٹیکٹ ہی بنا سکتا تھا۔ شہزادے نے اسے ایک لاکھ ریال دینے چاہے تو اس نے انکار کر دیا اور کہا کہ “ہم مانگنے والے نہیں ہیں، ہم صرف اللہ کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں”۔ شہزادے نے کمال ذہانت سے کہا کہ “یہ بھیک نہیں بلکہ اس بچی کی بہادری کا انعام ہے جس نے میرے سیکیورٹی حصار کو توڑ کر مجھ تک رسائی حاصل کی”۔
یادداشت کی واپسی اور نیا آغاز: شہزادہ سلمان نے انہیں فوری طور پر شاہی ہسپتال منتقل کیا جہاں وی وی آئی پی (VVIP) پروٹوکول میں ان کا علاج ہوا۔ وہاں جب زرتاشہ کو کاغذ اور پنسل دی گئی تو اس نے اپنی یادداشت کی بنیاد پر اس عظیم شاہی محل کا نقشہ تیار کر دیا جس کا کام اس کے لاپتہ ہونے کی وجہ سے چھ سال سے رکا ہوا تھا۔ شہزادے نے جب اسے اس کے نام سے پکارا تو اسے اپنا ماضی، اپنا مقام اور اپنا فن سب یاد آگیا۔
شہزادہ سلمان نے اعلان کیا کہ اس ادھورے شاہی محل کی تعمیر اب دوبارہ زرتاشہ کی نگرانی میں شروع ہوگی۔ بچی (نور) کی تعلیم اور پرورش کا تمام خرچہ شاہی خزانے کے ذمے لگا دیا گیا۔ یوں مکہ کی گلیوں میں دی گئی ایک چھوٹی سی پرچی نے نہ صرف ایک یتیم بچی کی تقدیر بدل دی بلکہ ایک گمشدہ عظیم فنکار کو اس کی پہچان اور وقار واپس دلا دیا۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں، ایک غیرت مند اور اللہ پر یقین رکھنے والا انسان کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا، اور پھر اللہ اسے وہاں سے عزت عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

Comments