جنرل پرویز مشرف ایک ہال میں بیٹھے تھے سامنے میڈیا بھی تھا اور طلبہ بھی ایک طالب علم نے سوال کیا

جنرل پرویز مشرف ایک ہال میں بیٹھے تھے سامنے میڈیا بھی تھا اور طلبہ بھی ایک طالب علم نے سوال کیا

بلوچستان میں آپریشن کیوں ہو رہا ہے
مشرف نے جواب دیا
کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک ریاست کے اندر دوسری ریاست بن چکی ہے ہماری آرمی کی گاڑیاں روکی جاتی ہیں
گھنٹوں چیک ہوتی ہیں فوجیوں کی تلاشی لی جاتی ہے
کیا آپ چاہتے ہیں کہ یہ سب یونہی چلتا رہے؟
پھر ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے یا نہیں
انہوں نے جواب دیا
ایک آرمی چیف آپ کے سامنے بیٹھا ہے اور آپ جو چاہیں سوال کر رہے ہیں پھر بھی آپ کہتے ہیں میڈیا آزاد نہیں
میں یہاں یہ بحث نہیں چھیڑنا چاہتا کہ مشرف نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط
لیکن ان کے پہلے جواب کا تعلق براہِ راست کل کے اس افسوسناک سانحے سے جڑتا ہے
کراچی سے کوئٹہ جانے والی ایک فیملی گوگل میپس کے سہارے سفر کر رہی تھی راستہ بھٹکنے کے بعد وہ دشت کے علاقے میں پہنچ گئی اور وہاں ایسے درندوں کے ہتھے چڑھ گئی جنہیں ملک دشمن عناصر پاکستان میں خوف نفرت اور انتشار پھیلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں
صرف ایک آلٹو کارصرف ایک نمبر پلیٹ
اور اندھا دھند فائرنگ شروع
کراچی کے رہائشی علی جمیل موقع پر ہی جان سے گئے ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوئیں۔ دو بیٹیاں خوش قسمتی سے محفوظ رہیں لیکن جسمانی حفاظت ہمیشہ ذہنی سلامتی کی ضمانت نہیں ہوتی
ذرا تصور کریں
وہ بچیاں کس کرب سے گزری ہوں گی؟
اپنے والد کو اپنی آنکھوں کے سامنے گرتے دیکھنا گولیوں کی آواز چیخیں خون
ان سب کا قصور کیا تھا؟
میں یہاں نفرت پھیلانے نہیں آیا
لیکن ایک سوال ضرور ہے
آخر ہم اپنے ہی ملک کے کچھ علاقوں میں بے خوف کیوں نہیں جا سکتے؟
کیوں ایک عام شہری کے لیے وہاں جانا زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے؟
کیوں غلطی سے راستہ بھٹک جانا بھی بعض جگہوں پر موت کا پروانہ بن جاتا ہے؟
ایک بے قصور شخص جو شاید اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے الیکٹرونکس یا سستے موبائل خرید کر کراچی میں بیچتا تھا آخر اسے کس جرم کی سزا ملی؟
وہ کسی دشمن ملک کی سرحد پار نہیں کر گیا تھا
وہ پاکستان کے اندر ہی تھا
تو پھر اس کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟
یہ سوال صرف ایک خاندان کا نہیں یہ سوال ریاست سکیورٹی اور ہماری اجتماعی بے حسی تینوں کے سامنے کھڑا ہے
اور آخر میں ایک ضروری مشورہ
گوگل میپس پر کبھی اندھا اعتماد نہ کریں
گوگل میپ صرف رہنمائی کے لیے استعمال کریں فیصلہ کن سچ سمجھ کر نہیں خاص طور پر دور دراز یا حساس علاقوں میں سفر کرتے وقت راستے میں مقامی لوگوں سے تصدیق ضرور کریں
کیونکہ کبھی کبھی
ایک غلط موڑ صرف منزل نہیں بدلتا
زندگی بھی بدل دیتا ہے
جنرل پرویز مشرف ایک ہال میں بیٹھے تھے سامنے میڈیا بھی تھا اور طلبہ بھی ایک طالب علم نے سوال کیا

Comments