ملائیشیا کی حکومت نے ملک بھر میں ڈیزل کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت یکم جولائی سے ڈیزل 2.10 رنگٹ (تقریباً 0.50 ڈالر) فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشین وزارت خزانہ نے بتایا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں موجود فرق کے باعث اسمگلنگ اور ریونیو میں نقصان بڑھ رہا تھا، جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس وقت مشرقی ریاستوں صباح اور سراواک میں سبسڈی والا ڈیزل 2.15 رنگٹ فی لیٹر جبکہ جزیرہ نما ملائیشیا میں اس کی قیمت 4.37 رنگٹ فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق قیمتوں میں بڑا فرق اسمگلنگ اور سبسڈی والے ڈیزل کی غیر قانونی ترسیل کا باعث بن رہا تھا، جس سے ملکی خزانے کو نقصان ہو رہا تھا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ حکومت اضافی سبسڈی کی مالی معاونت کے طریقہ کار کا اعلان بعد میں کرے گی۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران جنگ کے اثرات کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث حکومتوں پر مالی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ملائیشین قومی توانائی کمپنی پیٹروناس نے ترکمانستان میں نئی توانائی معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت کمپنی کو دنیا کے بڑے گیس ذخائر تک رسائی حاصل ہوگی۔ وزیر اعظم انور ابراہیم کے مطابق یہ معاہدے ملائیشیا کو چین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے گیس برآمد کرنے کے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روس نے ملائیشیا کو کم از کم 20 سال کے لیے تیل، گیس اور ڈیزل کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Comments
Post a Comment