عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد کمی ہوئی، امریکی خام تیل ڈبلیوٹی آئی کی قیمت کم ہوکر 69 ڈالرفی بیرل پرآ گئی، برطانوی خام تیل برینٹ بھی سستا ہوکر 72 ڈالرفی بیرل میں فروخت ہونے لگا،اماراتی مربن 66 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگست کے برینٹ معاہدے کی قیمت ستمبر کے معاہدے سے کم ہونے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قلیل مدت میں تیل کی فراہمی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ مالیاتی ادارے آئی جی (IG) کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کی تیز رفتار بحالی نے مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے کیونکہ سرمایہ کار توقع سے کہیں زیادہ جلد معمولات کی واپسی کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں،بدھ کے روز بھی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی ہے معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز تک ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔ عمان نے آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی روانگی آسان بنانے کے لیے عارضی بحری راستے کھول دیے ہیں، جبکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور عمانی حکام بحری نقل و حرکت کو مربوط بنانے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق کل جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز ہے، اس کمی کے بعد پیٹرول 241 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 266 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حتمی قیمتوں کا اعلان کل وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

Comments
Post a Comment