اور راحت فتح علی خان کے ساتھ ان کا خاندانی جھگڑا کس 'خفیہ راز' پر چل رہا ہے؟
1998 میں جب موسیقی کے بے تاج بادشاہ نصرت فتح علی خان اس دنیا سے رخصت ہوئے، تو وراثت کی ایسی سرد جنگ شروع ہوئی کہ ان کی بیگم اپنی 12 سالہ بیٹی ندا نصرت کو لے کر کینیڈا شفٹ ہو گئیں۔ خان صاحب اپنی فیملی کے لیے اربوں روپے چھوڑ گئے تھے جس سے انہوں نے وہاں پرآسائش زندگی گزاری، مگر اپنوں کی دوری کا زخم نہ بھر سکا۔ 2013 میں والدہ کی وفات کے بعد ندا بالکل اکیلی رہ گئیں۔
اصل دھماکہ 2018 میں ہوا، جب ندا نصرت نے پاکستان آ کر ایک سنسنی خیز پریس کانفرنس کی اور راحت فتح علی خان پر کلیم ٹھوک دیا کہ "میرے والد کے نام پر کروڑوں کمائے جا رہے ہیں، راحت ان کا کلام میری اجازت کے بغیر گا رہے ہیں جبکہ خان صاحب کی اصل قانونی وارث صرف میں ہوں!" انہوں نے ایک بڑا ٹوسٹ دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا کہ راحت فتح علی خان کی بیوی کا نام بھی 'ندا' ہے، جو کہ لوگوں کو کنفیوز کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ خان صاحب کی اصل بیٹی وہ خود ہیں۔
اس بات پر راحت فتح علی خان شدید ناراض ہوئے اور کہا کہ "میں خان صاحب کا باقاعدہ جانشین اور شاگرد ہوں، مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔" اندر کی بات یہ ہے کہ خان صاحب کی انٹرنیشنل رائلٹی کا ایک روپیہ بھی ان کی سگی بیٹی ندا تک نہیں پہنچنے دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ خاندانی جنگ آج بھی سلگ رہی ہے۔ موسیقی کی اتنی بڑی سلطنت کی شہزادی کا یوں بے دخل ہو جانا واقعی ایک بڑا المیہ ہے۔

Comments
Post a Comment