سعودی عرب کا وہ سچا واقعہ جب دو بھائی عدالت پہنچے لیکن جائیداد کے لیے نہیں بلکہ

سعودی عرب کا وہ سچا واقعہ جب دو بھائی عدالت پہنچے لیکن جائیداد کے لیے نہیں بلکہ

'اپنی بوڑھی ماں' کی خدمت کے لیے عدالت پہنچ گئے!

عام طور پر جب دو بھائی عدالت جاتے ہیں تو جھگڑا وراثت یا زمین کا ہوتا ہے، مگر سعودی عرب کی عدالت میں سفید داڑھی والے 'حزام الغامدی' اور اس کے چھوٹے بھائی کا مقدمہ انوکھا تھا۔ دونوں اپنی ضعیف ماں کو اپنے پاس رکھنے کے حق کے لیے لڑ رہے تھے۔

بڑا بھائی حزام روتے ہوئے بولا: "جناب! میں نے برسوں ماں کو سینے سے لگائے رکھا ہے، مجھ سے میری جنت نہ چھینیں!" جبکہ چھوٹے بھائی کی دلیل تھی کہ "حزام اب خود بوڑھے ہو چکے ہیں، ماں کی خدمت کا بوجھ اب میرے جوان کندھوں پر ہونا چاہیے تاکہ بھائی آرام کر سکیں۔"

جج نے مجبور ہو کر ضعیف ماں سے پوچھا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں؟ بوڑھی ماں نے روتے ہوئے کہا: "جج صاحب! میرے دونوں بیٹے میری دو آنکھیں ہیں، ایک کو چنوں گی تو دوسری سے محروم ہو جاؤں گی!" ماں فیصلہ نہ کر سکی تو جج نے چھوٹے بھائی کی بہتر صحت کو دیکھتے ہوئے ماں کی کفالت اسے سونپ دی۔ فیصلہ سنتے ہی بوڑھا حزام وہیں زمین پر گر کر بچوں کی طرح دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ وہ کوئی جائیداد نہیں ہارا تھا، بلکہ اس کے ہاتھوں سے ماں کی خدمت کا وہ قیمتی موقع چھن گیا تھا جو اس کے لیے ہر دولت سے بڑھ کر تھا۔

یہ کہانی آج کے اس دور کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جہاں لوگ بوڑھے ماں باپ کو بوجھ سمجھتے ہیں

Comments