اس عورت نے ابلتے ہوئے پانی میں سے ایک بڑا گرم انڈا نکالا

اس عورت نے ابلتے ہوئے پانی میں سے ایک بڑا گرم انڈا نکالا

ایک مرتبہ رات کے وقت سلطان صلاح الدین ایوبی اپنے حجرے میں بیٹھے ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے کہ اچانک حجرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ انہوں نے باہر موجود شخص کو اندر آنے کی اجازت دی۔ اندر آنے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا خاص وزیر علی بن سفیان تھا۔ اس نے سر جھکایا ہوا تھا اور وہ بہت شرمندہ نظر آ رہا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے وزیر کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“بولیے وزیرِ محترم! رات کے اس پہر آپ کس لیے تشریف لائے ہیں؟”

وہ نہایت شرمندہ لہجے میں بولا:
“سلطانِ معظم! معافی چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ کو تکلیف دے رہا ہوں، لیکن میرا دل بہت بے چین ہے۔ بستر پر لیٹتا ہوں مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہے۔ ایک ضروری بات تھی، اسی لیے حاضر ہوا ہوں۔ اگر اجازت ہو تو آپ کے قریب بیٹھ جاؤں؟”

اس کا انداز بہت خوفزدہ تھا، جو سلطان کو بالکل اچھا نہ لگا۔ ان کے نزدیک یہ وزیر صرف فوج کا حصہ نہیں بلکہ ایک سچا دوست تھا۔ اسی لیے سلطان نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا، اپنے قریب بٹھایا اور دوستانہ انداز میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا:
“کیا بات ہے؟ آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ بتائیے وہ کون سی پریشانی ہے جس نے آپ کی نیند چھین لی ہے؟”

وزیر نے سلطان کی طرف دیکھا اور بولا:
“سلطانِ معظم! عراق میں ایک عورت آئی ہے جو عورتوں کے کپڑے سونگھ کر ان کے مستقبل کے بارے میں بتاتی ہے۔ وہ دعویٰ کرتی ہے کہ کون سی لڑکی کنواری ہے اور کس نے اپنا کنوارپن کھو دیا ہے۔ اس بات نے بہت سی ماؤں کو پریشان کر دیا ہے۔ جہاں بھی کسی لڑکی کا رشتہ طے ہوتا ہے، وہاں کی عورتیں اس لڑکی کو اس عورت کے پاس لے جاتی ہیں تاکہ وہ اس کا مستقبل بتائے۔ اگر وہ کوئی بری بات کہہ دے تو لوگ فوراً رشتہ توڑ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے نہ جانے کتنی مائیں رو رہی ہیں اور لوگوں کی زندگیاں برباد ہو رہی ہیں۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ اس سے اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ قرآن کہتا ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور جو اللہ چاہے وہ اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے۔ پھر یہ عورت مستقبل کیسے بتا رہی ہے؟ لوگ اسلام پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سلطانِ معظم! ہمیں کچھ کرنا چاہیے۔”

طویل خاموشی کے بعد سلطان نے وزیر کی طرف دیکھا اور الجھن بھرے لہجے میں فرمایا:
“ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہمیں تو یہ سب افواہ لگتا تھا، لیکن آپ کے منہ سے سن کر حیرانی ہو رہی ہے۔ ہم کل ہی عراق روانہ ہوں گے اور اس عورت کو پکڑیں گے۔ واقعی اگر یہ سب سچ ہے تو وہ نہ صرف لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے بلکہ اسلام پر بھی سوال اٹھا رہی ہے۔”

اگلی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی سلطان تمام تیاری مکمل کر چکے تھے۔ انہوں نے اپنی زوجہ کو حالات سے آگاہ کیا، لباس تبدیل کیا اور محل کے پچھلے حصے سے روانہ ہو گئے۔ روانگی سے پہلے انہوں نے وزیر سے ملاقات کی اور تمام اختیارات اس کے سپرد کر دیے۔

طویل سفر کے بعد وہ عصر کے وقت عراق پہنچے۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے نمازِ عصر ادا کی اور پھر ایک کونے میں بیٹھ کر خشک روٹی کھانے لگے۔ ان کے لباس اور انداز سے ہرگز محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کوئی عظیم سلطان ہیں۔ یہ ان کی سادگی کی اعلیٰ مثال تھی۔

کھانا کھانے کے بعد انہوں نے ایک عام آدمی سے اس عورت کا پتہ پوچھا۔ کئی لوگوں نے حیرانی سے دیکھا، کچھ نے طنز بھی کیا کہ “بھائی! تمہیں اس عورت کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟”

آخرکار وہ ایک سبزی فروش کے پاس پہنچے۔ سلطان نے نہایت نرمی سے سلام کیا اور پوچھا:
“بھائی! کیا آپ ہمیں اس عورت کا پتہ بتا سکتے ہیں جو مستقبل بتاتی ہے؟”

سبزی فروش نے حیرانی سے پوچھا:
“کیا آپ عورت ہیں؟”

سلطان نے مسکرا کر جواب دیا:
“نہیں، لیکن ہماری عورت وہاں جانا چاہتی ہے۔ ہم صرف تحقیق کے لیے آئے ہیں کہ کہیں یہ دھوکہ تو نہیں۔”

سبزی فروش بولا:
“ہمارے اسلام میں اس قسم کی باتیں گناہ ہیں۔ بہرحال اگر جانا ہی ہے تو بڑی مسجد کے کونے والے گھر میں چلے جائیں، وہیں اس کا حجرہ ہے۔”

سلطان دل ہی دل میں خوش ہوئے کہ ابھی بھی کچھ لوگ اسلام کی صحیح تعلیمات پر قائم ہیں۔

جب سلطان اس گھر پہنچے تو وہاں کا ماحول ان کی توقعات سے مختلف تھا۔ ایک طرف عورتوں کی مجلس تھی جہاں ایک پردہ دار خاتون دینی تعلیم دے رہی تھی، اور دوسری طرف ایک بزرگ مردوں کو دین کی باتیں سمجھا رہے تھے۔ سلطان کافی دیر تک خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہے مگر انہیں کوئی غلط بات نظر نہ آئی۔

بعد میں سلطان ایک بزرگ عالم سے ملنے گئے جن سے انہیں روحانی سکون ملتا تھا۔ بزرگ نے انہیں دیکھتے ہی پہچان لیا۔ سلطان حیران ہوئے اور پوچھا:
“آپ نے ہمیں کیسے پہچان لیا جبکہ ہم نے اپنا تعارف بھی نہیں کروایا؟”

بزرگ مسکرائے اور بولے:
“جب آپ عراق میں داخل ہوئے تھے، ہمیں تب ہی معلوم ہو گیا تھا۔ اور جب آپ ہمارے گھر کے قریب آئے تو آپ کی خوشبو سے پہچان گئے کہ سلطنت کے بادشاہ تشریف لائے ہیں۔”

کچھ دیر گفتگو کے بعد سلطان واپس اپنے محل لوٹ آئے۔

چند دن بعد دربار میں ایک عورت حاضر ہوئی جس کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی:
“سلطانِ معظم! عراق کی وہ عورت ہماری بیٹیوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔ میری چار بیٹیاں تھیں، بڑی مشکل سے ان کے رشتے طے ہوئے تھے، لیکن اس عورت نے ایک ایک کر کے سب رشتے تڑوا دیے۔ کسی کے بارے میں کہا کہ وہ بانجھ ہے، کسی کے بارے میں کہا کہ اس کی وجہ سے خاندان تباہ ہو جائے گا، اور ایک کے بارے میں تو یہ تک کہہ دیا کہ اس نے اپنا کنوارپن کھو دیا ہے۔ اب کوئی ہماری بیٹیوں سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔”

یہ سن کر سلطان حیران رہ گئے۔ انہیں فوراً اس بزرگ کی بات یاد آئی:
“ہر وہ چیز جو آنکھ دیکھے، ضروری نہیں کہ وہی سچ ہو۔”

اب سلطان کو یقین ہو گیا کہ پہلی مرتبہ ان کی آمد کی خبر پہلے ہی پہنچا دی گئی تھی اور اصل حقیقت ان سے چھپائی گئی تھی۔

اس بار سلطان نے عورت کا بھیس بدلا اور دوبارہ عراق روانہ ہوئے۔ جب وہ اس عورت کے گھر پہنچے تو منظر بالکل مختلف تھا۔ اس بار وہاں نہ دینی مجلس تھی اور نہ تعلیم، بلکہ بہت سی لڑکیاں سر جھکائے بیٹھی تھیں۔

عورت نے سلطان کو اندر لے جا کر ان کے کپڑے سونگھنے شروع کیے۔ جیسے ہی وہ قریب آئی، سلطان نے فوراً اس کی گردن پر تلوار رکھ دی اور نقاب ہٹا دیا۔

عورت خوف سے کانپنے لگی اور معافی مانگنے لگی۔

سلطان نے سخت لہجے میں پوچھا:
“سچ بتاؤ! تم لوگوں سے جھوٹ کیوں بولتی ہو؟”

وہ روتے ہوئے بولی:
“میں کوئی مستقبل نہیں جانتی۔ میری اپنی زندگی برباد ہوئی تھی۔ میری ساس نے مجھے بانجھ قرار دے کر میری منگنی تڑوا دی تھی۔ اس دن کے بعد میں نے قسم کھا لی کہ میں کسی لڑکی کو آباد نہیں ہونے دوں گی۔ اسی لیے میں نے یہ کام شروع کیا۔”

سلطان نے پوچھا:
“اور جب ہم پہلی بار آئے تھے تو تمہیں پہلے ہی خبر کیسے ہو گئی تھی؟”

وہ بولی:
“سبزی فروش نے مجھے اطلاع دی تھی کہ ایک آدمی میرے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں آپ تحقیق کے لیے نہ آ جائیں، اسی لیے میں نے پہلے ہی سارا ماحول بدل دیا تھا۔”

جب وہاں موجود عورتوں کو حقیقت معلوم ہوئی تو وہ سب اس عورت کے خلاف ہو گئیں۔ لیکن سلطان نے اس کی غلطی کے باوجود اسے آخری موقع دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس عورت کی زندگی بھی ظلم کی وجہ سے برباد ہوئی تھی۔

بعد میں سلطان نے پوری رعایا میں اعلان کروا دیا:
“یہ عورت جھوٹی ہے۔ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس کے سوا کسی کے پاس نہیں۔”

اس اعلان کے بعد بہت سے ٹوٹے ہوئے رشتے دوبارہ جڑ گئے۔

آخر میں سلطان ایک بار پھر اس بزرگ کے پاس گئے اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا:
“آپ نے بالکل درست فرمایا تھا، ہر وہ چیز جو آنکھ دیکھے ضروری نہیں کہ وہی سچ ہو۔”

Comments