ننھی حورم کے اغ-وا کی ہو-لنا-ک کہانی، باپ کی 15 لاکھ قربان مگر پولیس خاموش!

ننھی حورم کے اغ-وا کی ہو-لنا-ک کہانی، باپ کی 15 لاکھ قربان مگر پولیس خاموش!

دو ماہ قبل پشاور سے اغوا ہونے والی ننھی 'حورم' کو ایک سفاک عورت کے ذریعے عبدالوحید نامی شخص نے کچے کے درندوں کو بیچ دیا۔ ایک بے بس باپ کے پیروں میں تھانوں کے چکر کاٹ کاٹ کر چھالے پڑ گئے۔ اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی (15 لاکھ روپے) ڈاکوؤں کو بھی بھیجوائی، لیکن ظالموں نے پیسے لینے کے باوجود اس کی شہزادی کو نہ چھوڑا ۔

درندگی کی انتہا تو تب ہوئی جب رات کے گھپ اندھیرے میں، بندوق کی نوک پر اس روتی بلکتی معصوم بچی سے ایک جھوٹی ویڈیو بنوائی گئی، جس میں اس سے زبردستی کہلوایا گیا کہ "مجھے میری ماں چھوڑ کر گئی ہے"۔ اس سازش نے عوام کو شدید تذبذب میں ڈال دیا۔

لیکن جب قانون سو رہا ہو، تو غیرت جاگ اٹھتی ہے۔ بلوچستان کے بہادر سپوت، دولت خان ترین نے جب یہ ظلم دیکھا تو اس کا خون کھول اٹھا۔ اس نے میدان میں کھڑے ہو کر قسم کھائی اور خیبر پختونخوا سے غیور پختونوں کا ایک ایسا طوفانی لشکر کچے کی طرف نکل پڑا، جس کی دھاڑ سے سندھ کے ایوانوں تک میں لرزہ طاری ہو گیا۔

یہ لشکر ابھی کچے تک پہنچا ہی تھا کہ سالوں سے سوئی ہوئی سندھ پولیس کی نیندیں اڑ گئیں۔ انہیں اپنے زیرِ سرپرستی چلنے والے ڈاکوؤں کی موت صاف نظر آنے لگی۔ جلدی میں ایک "فلمی" آپریشن لانچ کیا گیا، ایک کارندے کو پار لگایا، بچی بازیاب کروائی اور فوراً طویل پریس کانفرنس کر کے سینے پر تمغے سجا لیے گئے۔

حقیقت یہ ہے کہ سندھ پولیس نے یہ سارا ڈرامہ بچی کے لیے نہیں، بلکہ کچے کے بڑے نیٹ ورک کو پختونوں کے قہر سے بچانے کے لیے رچایا تھا۔ اگر پولیس اتنی ہی پھرتیلی تھی تو وہ باپ دو ماہ تک کیوں رلتا رہا؟ سلام ہے اس غیرت مند لشکر کو، جس کے خوف نے کچے کے فرعونوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا!

کیا آپ کو لگتا ہے کہ سندھ پولیس واقعی کچے کے ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ کرنا چاہتی ہے، یا یہ صرف ایک وقتی دکھاوا تھا؟

Comments